خلافت و امامت میں عصمت (گناہوں سے مکمل معصوم ہونا) ہرگز شرط نہیں ہے۔ یہ نظریہ بعد کی فرقہ واریت نے گھڑا تاکہ قیادت کو مخصوص خاندان یا شخصیات سے جوڑا جا سکے۔ جبکہ کوئی خاندان بھی گناہوں سے منزہ نہیں ہے قرآن و سنت کی ہدایت یہ ہے کہ قیادت اہلِ تقویٰ، عدل اور شوریٰ سے منتخب ہو، لیکن عصمت صرف انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔(النساء: 58)
یہاں معیار اہلیت اور عدل ہے، عصمت کا ذکر نہیں ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ
تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت۔(سنن ابوداؤد، حدیث 4607)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ خلفاء کی اتباع واجب ہے،اس لئے کہ وہ قرآن و سنت کے منہج پر قائم تھے۔
فرقہ واریت نے قیادت کو معصوم قرار دے کر دین میں غلو پیدا کیا، جس سے امت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ جبکہ صحابہؓ نے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، حسنؓ، معاویہؓ اور یزیدؒ کو خلافت دی، اور سب جانتے تھے کہ وہ بشر ہیں، گناہ کر سکتے ہیں، مگر دین پر قائم، عادل اور اہل تھے۔
لہذا خلافت و امامت میں عصمت شرط نہیں، بلکہ تقویٰ، اہلیت، عدل اور شوریٰ شرط ہیں۔ عصمت کا عقیدہ غیر انبیاء کے بارے میں باطل ہے، اور نجات اسی میں ہے کہ قیادت کو صحابہؓ کے منہج پر سمجھا جائے، نہ کہ غالی فرقوں کے نظریات پر۔