کیا ختم نبوت کا انکار کرنے والا مسلمان رہ سکتا ہے؟

ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور اس کا انکار کرنا کفر ہے، کیونکہ یہ قرآن و سنت کے صریح حکم کے خلاف ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے آخر ہیں۔
(الاحزاب 40)

یہ اعلان صاف بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أنا خاتم النبيين
یعنی میں آخری نبی ہوں۔
صحيح البخاري – كتاب المناقب – باب خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم:3535

لہٰذا جو شخص ختمِ نبوت کا انکار کرے، وہ براہِ راست قرآن و حدیث کا منکر ہے، اور اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے۔

مسلمان کے ایمان کی بنیاد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں، اور آپ کے بعد کوئی شریعت یا نبوت نہیں۔ اس حقیقت کو جھٹلانے والا اسلام سے باہر ہے اور اس کے ساتھ دینی تعلق قائم رکھنا درست نہیں۔

تلاش کریں