قرآن و سنت کی روشنی میں جمہوریت کو شریعت کا نظام کہنا ایسے ہی ہے جسے شرک کو توحید اور بدعت کو سنت کہنا، حالانکہ یہ کفریہ و شرکیہ نظام ہے کیونکہ اس میں حاکمیت عوام کی مانی جاتی ہے جبکہ اسلام میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ
حکم صرف اللہ ہی کا ہے
(یوسف 40)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قانون سازی، حلال و حرام کا فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، کسی قوم، پارلیمنٹ یا اکثریت کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا۔
یہ کفار کو نظام حکومت ہے جبکہ اسلام کا نظام حکومت خلافت ہے۔ قرون اولی میں کفار کے ہاں اور نظام حکومت بھی پائے جاتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز داخل کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری 2697، صحیح مسلم 1718)
جمہوری اصول، جن میں عوام کو مطلق حاکم مانا جاتا ہے یہ اسلام میں کفر و شرک، اضافہ اور بدعت ہیں۔
جمہوریت کے تحت قانون سازی، سود، زنا، شراب، اور دیگر کفریہ امور کو اکثریت کی بنیاد پر حلال و حرام قرار دینا ممکن ہوتا ہے، جبکہ اسلام میں حاکم اللہ ہے، نہ کہ عوام۔ اسی لیے اسے کافرانہ نظام کہنا ہی درست ہے۔