جی ہاں بلکل: ایمان کے بعد بھی کفر یا نفاق کا خطرہ باقی رہتا ہے، اگر دل اور عمل میں دوغلا پن یا اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے انحراف پیدا ہو جائے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ
اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر، اُس کتاب پر جو اُس نے اپنے رسول پر نازل کی، اور اُس کتاب پر جو اُس سے پہلے نازل کی۔
(النساء: 136)
ایمان ایک مستقل کیفیت ہے جس کی حفاظت ضروری ہے، محض زبانی دعویٰ کافی نہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا
إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ
بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔
(صحيح البخاري:كتاب الرقاق:حدیث: 6478)
لہٰذا مومن پر لازم ہے کہ ایمان کی حفاظت دعا، تقویٰ اور اتباعِ سنت سے کرے، کیونکہ نفاقِ قلبی یا عملی کفر کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے، اور ایمان کا دوام صرف اخلاص و اطاعت سے ممکن ہے۔