کیا اہلِ بیت یا اولیاء کی محبت نذر کے جواز کی بنیاد بن سکتی ہے؟

اہلِ بیت یا اولیاء کی محبت ایمان کا حصہ ہے، مگر نذر (یعنی اللہ کے نام پر کوئی چیز ماننا) صرف اور صرف اللہ کے لیے مخصوص عبادت ہے، محبت کی بنیاد پر بھی اسے کسی اور کے نام پر کرنا جائز نہیں۔

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۝ لَا شَرِيكَ لَهُ۔۔۔۝
کہہ دو! میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
(الأنعام :162–163)

نبی ﷺ نے فرمایا

أَوْفِ بِنَذْرِكَ فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
اپنی نذر پوری کر لو البتہ اللہ کی نافرمانی کی نذر پوری کرنا جائز نہیں۔
(سنن ابي داود:كتاب الأيمان والنذور:حدیث: 3313)

لہٰذا اہلِ بیت یا اولیاء کی محبت نذر کے جواز کی بنیاد نہیں بن سکتی، کیونکہ نذر عبادت ہے، اور عبادت غیر اللہ کے لیے کرنا شرک ہے۔ محبت کے اظہار کے لیے دعا، اتباع اور ان کی سنت پر عمل درست طریقہ ہے،انکے نام کی نذرو نیاز کرنا نہیں۔

تلاش کریں