کیا اولیاء کو کشف سے حقیقت معلوم ہو جاتی ہے؟

اللہ تعالیٰ نے علمِ غیب کی نسبت صرف اپنی ذات کو دی ہے۔

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ
کہہ دو! آسمانوں اور زمین میں جو ہیں، اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
(النمل: 65)

یہ آیت بالکل صریح ہے کہ غیب کا علم کامل طور پر صرف اللہ کے پاس ہے، کسی ولی، نبی یا فرشتہ کو بھی اس کا احاطہ نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي
مجھے بھی نہیں معلوم کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
صحيح البخاري – كتاب الجنائز – باب الدخول على الميت بعد الموت:1243

اگر اللہ کے رسول ﷺ اپنی ذات کے بارے میں مستقل غیب نہیں جانتے تو کوئی ولی یا صوفی کشف کے ذریعے حقیقت کا مکمل ادراک کیسے کر سکتا ہے؟

اولیاء اللہ کو کشف کے ذریعے کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔ نہ ان کے پاس کوئی یقینی علمِ غیب ہے۔ اگر کشف قرآن و سنت کے مطابق ہو تو وہ خیر کی بشارت ہے، ورنہ وہ شیطانی دھوکہ ہے۔ اصل معیار کتاب و سنت ہیں، نہ کہ خواب، کشف یا وجدانیات۔

تلاش کریں