کیا امامتِ علیؓ قرآن میں مذکور ہے؟

امامتِ علیؓ کے بارے میں قرآن میں کسی نصِ قطعی کے ساتھ کوئی ذکر نہیں ہے کہ وہ بطورِ خاص خلیفہ یا امام مقرر کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ۔ہدایت یہ دی ہے کہ قیادت و اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اہلِ ایمان کے اجماعی فیصلے کی بنیاد پر ہو۔ فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں کی، اور اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔ (النساء: 59)

یہ آیت کسی خاص صحابی کے نام کو بیان نہیں کرتی، بلکہ اصول بتاتی ہے کہ قیادت ایمان والوں کے اجتماعی نظم اور اطاعتِ شریعت کے تحت ہو۔ نبی ﷺ نے علیؓ کی فضیلت، علم اور قربت کے کئی مواقع پر ذکر فرمایا، مگر انہیں خلیفہ مقرر کرنے کا کوئی قطعی نص قرآن میں موجود نہیں۔ بلکہ فرمایا کہ

وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور ان کے تمام کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں، اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اسی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (الشورى: 38)

فرقہ واریت نے اسی مقام کو بگاڑا کہ کچھ گروہ امامتِ علیؓ کو دین کا بنیادی رکن اور قرآن کا دعویٰ بنانے لگے، حالانکہ قرآن نے خلافت کو شوریٰ پر قائم کیا ہے۔

تلاش کریں