کیا اسلامی حکومت کے بغیر دین مکمل نہیں؟

دین کی تکمیل کا دار و مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے، حکومت کا ہونا شرط نہیں۔ قرآن نے کئی ایسے گروہوں کا ذکر کیا جو اللہ کے نزدیک کامل ایمان والے تھے، مگر ان کے پاس اقتدار یا حکومت نہ تھی۔

اصحابِ کہف
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى
یہ چند جوان تھے جنہوں نے اپنے رب پر ایمان لایا، تو ہم نے ان کو ہدایت میں بڑھا دیا۔
(الکہف :13)
یہ نوجوان مشرک بادشاہ سے بچنے کے لیے غار میں پناہ گزین ہوئے، ان کے پاس نہ حکومت تھی نہ ریاست، پھر بھی قرآن نے ان کے ایمان کو نمونہ قرار دیا۔

اصحاب الخدود کے دور کے مومن
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ۝ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ۝ إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ… وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (البروج :4-8)
ہلاک کیے گئے کھائی والے، آگ والے، جب وہ اس پر بیٹھے تھے… وہ ان مومنوں پر اس کے سوا کوئی عیب نہیں لگاتے تھے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو غالب اور تعریف کے لائق ہے۔
یہ مومن ظالم بادشاہ کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے، مگر اللہ نے ان کے ایمان کو کامل قرار دیا۔

موسیٰؑ پر ایمان لانے والے جادوگر
فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَىٰ
جادوگر سجدے میں گر گئے اور کہنے لگے ہم ایمان لائے ہارون اور موسیٰ کے رب پر۔
(طٰہٰ :70)
انہیں فوراً فرعون کی قتل کی دھمکی ملی، مگر وہ اللہ کے نزدیک کامل مومن ہوئے، بغیر کسی حکومت کے۔

مؤمن جو آل فرعون سے تھا
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ…
اور فرعون کے خاندان کا ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپاتا تھا، بولا…
(غافر :28)
یہ تنہا مومن فرعون کے دربار میں تھا، نہ حکومت تھی نہ جماعت، مگر اللہ نے اسے مومن کہا۔

مریم علیہا السلام
وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔
(التحریم :12)
مریم علیہا السلام اکیلی عبادت گزار تھیں، کوئی ریاست یا حکومت ان کے ساتھ نہ تھی، پھر بھی قرآن نے انہیں کامل مومنہ قرار دیا۔

ایمان اور عمل صالح ہی دین کی اصل روح ہیں۔ اسلامی حکومت ملنا ایک نعمت ہے، مگر اس کے بغیر بھی دین ناقص نہیں ہوتا۔ دین کامل ہے، چاہے مومن غار میں ہو، کھائی میں جلا دیا جائے، یا اکیلا ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو۔ نیز اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل اور کامل قرار دیا ہے، چاہے اسلامی حکومت رہے یا نہ رہے۔ دین کی اصل بنیاد عقیدۂ توحید، عبادات، اخلاق اور شریعت کے احکام ہیں، جنہیں ہر مسلمان فرداً فرداً بجا لا سکتا ہے۔ حکومت اسلامی ایک بڑی نعمت اور دین کے اجتماعی احکام (حدود، قصاص، جہاد، بیت المال، عدل و قضا) کے نفاذ کا ذریعہ ہے، مگر اس کے بغیر دین ناقص نہیں ہوتا، کیونکہ دین اللہ کے نازل کردہ احکام کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔ فرمایا

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
(المائدہ: 3)

نبی ﷺ نے فرمایا
تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله، وسنة نبيه
چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو، نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔
(الموطأ امام مالک، حدیث 1620)
اس سے معلوم ہوا کہ دین کی حفاظت قرآن و سنت سے ہے، نہ کہ کسی خاص نظام حکومت کے وجود پر موقوف ہے۔

اسلامی حکومت دین کے اجتماعی احکام کے نفاذ کے لیے ضروری ہے، مگر ایمان، عبادت اور دین کی اصل حقیقت حکومت کے بغیر بھی مکمل ہے۔ دین کی تکمیل وحی اور سنتِ رسول ﷺ سے ہے، نہ کہ محض سیاسی اقتدار سے ہوتی۔

تلاش کریں