نبی ﷺ نے فرمایا: الکیس من دان نفسه – اس حدیث کا تعلق قیامت کے تصور سے کیسے ہے؟

نبی ﷺ کا فرمان ہے

الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ الْأمَانِيَّ
عاقل وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور نادان وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور صرف امیدیں باندھتا رہے۔
 جامع الترمذي – أبواب صفة القيامة والرقائق والورع: 2459

یہ حدیث قیامت کے تصور سے گہرا تعلق رکھتی ہے کیونکہ اس میں دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں ایک امتحان قرار دیا گیا ہے۔ من دان نفسه یعنی جو شخص اپنے نفس کا حساب دنیا ہی میں لیتا ہے، وہ دراصل قیامت کے دن کے محاسبے سے پہلے خود کو تیار کرتا ہے۔ ایسا بندہ اپنے اعمال، نیت، اور رویے کو اللہ کے احکام کے مطابق تولتا ہے گویا دنیا ہی میں اپنا میزان قائم کرتا ہے تاکہ کل یوم الحساب کے دن شرمندگی نہ ہو۔
من دان نفسه: کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
جس دن پوشیدہ راز ظاہر کر دیے جائیں گے۔
(الطارق: 9)

یعنی قیامت کے دن ہر انسان کے باطن کا حساب ہو گا، دل کے ارادے اور نیتیں ظاہر کر دی جائیں گی۔ اس لیے نبی ﷺ نے تاکید فرمائی کہ جو شخص عقل مند ہے، وہ آج ہی اپنا محاسبہ کرے تاکہ کل اللہ کے سامنے سرخرو ہو۔ توحیدی مفہوم میں یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان صرف علم یا دعویٰ نہیں، بلکہ خود احتساب کا نام ہے، اور قیامت کا یقین اسی وقت سچا بنتا ہے جب بندہ ہر عمل کو اس دن کے انجام کے تناظر میں پرکھتا ہے۔

تلاش کریں