مسلکی مناظروں نے علم کو بڑھایا یا دلوں میں نفرت پیدا کی؟

مسلکی مناظروں نے علم نہیں بڑھایا بلکہ دلوں میں نفرت، ضد، اور تفرقہ پیدا کیا، کیونکہ ان کا مقصد حق کی تلاش نہیں بلکہ اپنے مسلک کی برتری ثابت کرنا ہے۔ قرآن نے ایسے طریقے کو سختی سے منع کیا ہے فرمایا

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو واضح دلائل آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالنے لگے اور اختلاف کرنے لگے، ان ہی کے لیے بڑا عذاب ہے۔
(آلِ عمران: 105)

آج کے مسلکی مناظرے وہ بیماری بن چکے ہیں جن سے امت کی وحدت بکھر گئی۔ دلوں سے اخلاص، ادب، اور تواضع ختم ہو گئی، اور دلیل کی جگہ الزام، طنز اور تعصب نے لے لی۔ علم تو وہ ہے جو اللہ کی کتاب، رسول ﷺ کی سنت، اور صحابہ کرامؓ کے منہج پر قائم کرے، نہ کہ انسان کو دوسرے مسلمان سے نفرت سکھائے۔

اس لیے جو فعل دلوں کو دور کرے، بھائی چارہ ختم کرے، یا قرآن و سنت کے بجائے گروہی دفاع بن جائے وہ علم نہیں بلکہ آزمائش ہے، جس سے ایمان کمزور اور امت منتشر ہو جاتی ہے۔

تلاش کریں