لوط علیہ السلام کی قوم نے ان سے کس قسم کی دھمکی دی تھی؟

قومِ لوطؑ نے جب لوطؑ کو برائی سے روکنے اور ان کے گناہوں پر نصیحت کرتے دیکھا تو ان کے دلوں میں غرور اور ضد بڑھ گئی۔ انہوں نے الٹا نبی کو دھمکی دی کہ اگر تم ہمیں ان کاموں سے روکو گے تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ

اور اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے انہیں اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت پاک بننے والے ہیں۔
(الأعراف: 82)

یہ جملہ ان کی بغاوت اور حق سے نفرت کی علامت تھا۔ لوطؑ کو صرف اس بات پر جلاوطن کرنے کی دھمکی دی گئی کہ وہ پاکیزگی، عفت، اور اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی دعوت دیتے تھے۔ یہ واقعہ اس بات کی تنبیہ ہے کہ جب قومیں عقیدہ و اعمال کی پاکیزگی کا مذاق اڑانے لگتی ہیں، تو وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتی ہیں جیسا کہ قومِ لوط پر ہوا، جنہیں اللہ نے زمین الٹ کر تباہ کر دیا۔

تلاش کریں