قومِ نوحؑ نے اپنے نبی کی نصیحت کو جھٹلایا تو انجام کیا ہوا؟

قومِ نوحؑ کا انجام اللہ کی سنت کا واضح مظہر ہے کہ جب لوگ شرک، انکارِ وحی، اور نبی کی تکذیب میں حد سے گزر جائیں تو اللہ کا عذاب اُن پر ضرور آتا ہے۔

فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ
پس ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی میں نجات دی، اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم نے انہیں غرق کر دیا، بے شک وہ اندھے لوگ تھے۔
(سورۃ الاعراف :64)

قومِ نوحؑ نے نبی کی نصیحت کو جھٹلایا، تو اللہ نے طوفان کے ذریعے عذاب نازل فرمایا۔ صرف وہی بچے جو ایمان لائے۔ یہ سبق ہے کہ ایمان، اطاعتِ رسول ﷺ اور تقویٰ ہی نجات کا راستہ ہے۔ ایمان، اطاعت اور اصلاحِ نفس کے بغیر قومیں محفوظ نہیں رہتیں۔ جب بندہ گناہ اور سرکشی میں اطمینان محسوس کرے تو وہ عذاب کے قریب ہو جاتا ہے، جیسا کہ قومِ نوحؑ کا انجام ثابت کرتا ہے۔

تلاش کریں