قومِ سبا کے بستیوں کے درمیان سفر کو اللہ نے کس طرح آسان بنایا تھا؟

اللہ تعالیٰ نے قومِ سبا کے لیے سفر کو آسان، محفوظ اور خوشحال بنا دیا تھا، تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا مشقت کے ایک بستی سے دوسری بستی تک جا سکیں۔

قرآن میں ارشاد ہے کہ
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی (یعنی شام و یمن کے درمیان)، نمایاں بستیاں بنا دیں اور ان کے درمیان چلنے کا نظام مقرر کیا کہ تم ان میں رات دن امن و سکون سے چلو۔
(سبأ: 18)

یعنی اللہ نے یمن سے شام تک آباد بستیاں، سرسبز علاقے، اور باامن راستے فراہم کیے تھے تاکہ سفر کرنے والوں کو نہ بھوک، نہ پیاس، نہ خوف لاحق ہو۔ مگر قومِ سبا نے اس نعمت کی قدر نہ کی بلکہ ناشکری اور تکبر کا مظاہرہ کیا، اور دعا کی کہ (ہمارے سفر طویل کر دے) تاکہ آسانیاں ختم ہو جائیں (سبأ: 19)۔

یہ ان کی ناشکری اور ضد کی بدترین علامت تھی، جس پر اللہ نے ان کی نعمتیں چھین لیں اور سیلِ عَرِم کے ذریعے ان کی آبادیاں برباد کر دیں۔ یہ سبق ہر امت کے لیے ہے کہ اللہ کی نعمتوں کی پہچان اور شکر گزاری ہی بقا کا راز ہے، ورنہ آسائش بھی عذاب بن جاتی ہے۔

تلاش کریں