فرعون نے اپنی بادشاہت کے زوال کے خوف سے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ
وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
(البقرۃ: 49)
یہ واقعہ اہلِ ایمان کو سکھاتا ہے کہ اللہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے مگر چھوڑتا نہیں، اور کمزوروں کی آہ بالآخر فرعونوں کے تخت الٹ دیتی ہے۔