قومِ سبا پر ان کی ناشکری اور اللہ سے منہ موڑنے کی وجہ سے سیلِ عَرِم کا عذاب آیا۔ بند ٹوٹ گیا، ان کے سرسبز باغ ویران ہوگئے، کھجور اور انگور کی جگہ کڑوے اور بیکار پھل اگنے لگے۔ یوں خوشحال بستی بربادی کا شکار ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
فَأَعۡرَضُواْ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ وَبَدَّلۡنَـٰهُم بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ أُكُلٍ خَمۡطٖ وَأَثۡلٖ وَشَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ
پس انہوں نے منہ موڑا تو ہم نے ان پر بند توڑنے والا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دو باغوں کو بدل دیا دو باغوں میں جن کے پھل کڑوے تھے، کچھ جھاؤ اور تھوڑے سے بیری کے درخت تھے۔
(سبا: 16)
یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی دی ہوئی آسائشیں، امن اور خوشحالی شکر کے ساتھ باقی رہتی ہیں، اور جب انسان سرکشی کرے تو یہی آسائشیں عذاب میں بدل جاتی ہیں۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ ہم اللہ کے شکر گزار، مطیع اور توحید پر قائم رہیں تاکہ ہماری نعمتیں محفوظ رہیں۔