نبی اکرم ﷺ نے خبر دی کہ قیامت کے قریب علم اٹھ جائے گا یہ علماء کے فوت ہو جانے سے ہوگا، جن کے ساتھ علم بھی ختم ہو جائے گا۔ اور قیامت سے کچھ پہلے قرآن کے الفاظ و حروف بھی مٹا دیے جائیں گے، یہ اس عالمگیر فتنے کی آخری نشانیوں میں سے ہے جب زمین پر نہ ایمان باقی رہے گا، نہ قرآن۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا
اور اگر ہم چاہیں تو جو کچھ ہم نے تم پر وحی کیا ہے اسے بالکل ہی سلب کر لیں، پھر تم اس کے لیے ہمارے خلاف کوئی مددگار نہ پاؤ گے۔
(نبی اسرائیل: 86)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرآن اللہ کی حفاظت میں ہے جب تک اس کی مشیت ہے، لیکن قیامت کے قریب جب ایمان ختم ہو جائے گا، تو اللہ تعالیٰ خود قرآن کو زمین سے اٹھا لے گا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ فربری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے قتیبہ نے، کہا ہم سے جریر نے، انہوں نے ہشام سے مانند اس حدیث کے۔
(صحيح البخاري:كتاب العلم:حدیث: 100)
یعنی پہلے علم علماء کے ختم ہونے سے اٹھے گا، پھر قرآن حروف و مصاحف سے مٹ جائے گا، یہاں تک کہ دنیا میں اللہ کا ذکر، ہدایت اور ایمان کی کوئی نشانی باقی نہیں رہے گی۔ یہ وہ وقت ہوگا جب زمین پر صرف بدترین لوگ باقی ہوں گے، اور انہی پر قیامت اچانک قائم ہوگی یہ اللہ کے عدل اور وعدۂ قیامت کی تکمیل ہوگی۔