اللہ کے عذاب سے بےخوفی دراصل ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ ایمان کے زوال کی علامت ہے۔ مومن کا دل ہمیشہ خوف اور امید کے درمیان رہتا ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا ہے کہ بندہ اپنے رب کی عظمت، قدرت اور پکڑ کو پہچانے۔ جس دل میں اللہ کا خوف ختم ہو جائے، وہاں گناہوں کا تسلسل اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو سابقہ امتوں کی ہلاکت کا سبب بنی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
کیا بےخوف ہوگئے ہیں یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے ؟ سو واقعہ یہ ہے کہ نہیں بےخوف ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر وہ لوگ جو تباہ ہونے والے ہیں۔
(سورۃ الأعراف: 99)
واضح ہوا کہ اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا خسارے اور ہلاکت کا نشان ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ
(صحیح بخاری، حدیث 6486)
اس حقیقت سے ظاہر ہوا ہے کہ معرفتِ الٰہی جتنی بڑھتی ہے، اللہ کا خوف بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ لہذا جو بندہ اپنے رب کی قدرت سے بےپروا ہو جائے، وہ دراصل اپنے آپ کو اللہ کی سلطنت سے باہر سمجھنے لگتا ہے۔ جبکہ مومن ہمیشہ اس یقین پر قائم رہتا ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، مگر اس کی پکڑ بھی سخت ہے۔ بحرحال ایمان کا توازن اسی وقت باقی رہتا ہے جب بندہ رحمت کی امید رکھے مگر عذاب سے کبھی بےخوف نہ ہو۔