اصحابُ الاُخدود کا واقعہ قرآنِ حکیم میں بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ یہ وہ ظالم لوگ تھے جنہوں نے ایمان لانے والوں کو صرف اس لیے جلایا کہ وہ اللہِ واحد پر ایمان لے آئے تھے اور طاغوت کی عبادت سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے زمین میں بڑے بڑے گڑھے (اُخدود) کھود کر ان میں آگ بھڑکائی اور مؤمن مردوں اور عورتوں کو ان گڑھوں میں ڈال کر جلایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
ہلاک کر دیے گئے خندقوں والے، جن میں ایندھن بھری آگ بھڑکا رکھی تھی۔ جب وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ اس پر گواہ تھے جو وہ اہلِ ایمان کے ساتھ کر رہے تھے۔ اور وہ ان سے صرف اس بات پر دشمنی رکھتے تھے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور ستائش کے لائق ہے۔ (البروج: 4 تا 8)
یہ ظلم اس بات کی نشانی ہے کہ جب ایمان مضبوط ہو جائے تو اہلِ باطل صرف اللہ کی توحید کی دشمنی میں اہلِ ایمان کو اذیت دیتے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان نے اپنی جانیں قربان کر دیں لیکن کفر کی طرف نہیں لوٹے۔
نبی ﷺ نے بھی ایک بچے اور بادشاہ کی مشہور روایت بیان فرمائی، جس میں بادشاہ نے مومنوں کو گڑھوں میں آگ لگا کر جلایا، اور یہ اصحابُ الاُخدود ہی کی مثال ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 3005)
اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ پر ایمان کی راہ میں سخت سے سخت ظلم اور قربانی آ جائے، لیکن توحید اور ایمان سے منہ موڑنا سب سے بڑی تباہی ہے۔