آیا کہ عیسیٰ کی موت نہ ہونا کوئی معجزہ ہے؟

اللہ کی سنت یہی ہے کہ وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے بعض اوقات ایسے واقعات پیدا کرتا ہے جو انسانی تدبیر، قاتلوں کی سازش اور دنیا کے اسباب کے بالکل خلاف ہوتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا قتل سے بچ جانا بھی انسانوں کی نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا ظہور ہے۔ یہودیوں نے تدبیر کی، منصوبہ بنایا، مگر زندگی اور موت کا فیصلہ صرف اللہ کا ہوتا ہے۔فرمایا

وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۝ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا ۝
اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے، مسیح عیسی ابن مریم کو جواللہ کے پیغمبر ہیں ، حالانکہ نہ تو انہوں نے عیسی قتل کیا ہے، اور نہ سولی پر چڑھایا ہے، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا تھا۔ جولوگ عیسی کے بارے میں اختلاف کے شکار ہیں ، یقینا وہ بھی اس بارے میں شک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، بلکہ وہم پرستی کے شکار ہیں ۔ یقینا انہوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا،بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔ اللہ تعالی زبردست اور حکمت والا ہے۔
(النساء، 157، 158)

اللہ جب کسی نبی کو اپنی نشانی بناتا ہے تو اس کی پوری زندگی میں قدرت کے آثار رکھ دیتا ہے تاکہ بندوں پر ظاہر ہو جائے کہ یہ شخصیت عام انسان نہیں بلکہ اللہ کا منتخب رسول ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی شروع ہی سے اللہ کے معجزات کا نمونہ ہے۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا، گہوارے میں کلام کرنا، مٹی سے پرندہ بنا کر اللہ کے حکم سے اڑانا، مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو شفایاب کرنا، مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا سب اللہ کی قدرت کے وہ جلوے ہیں جو ان کی نبوت پر روشن دلیل ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام ہی کے بارے میں فرمایا کہ

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝
وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا
(آل عمران 46)
اللہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ انہوں نے بچپن میں بھی کلام کیا اور ادھیڑ عمر میں بھی کریں گے۔ یہ دونوں ادوار ایک ہی سلسلۂ معجزات ہیں جنہیں اللہ نے اپنی حکمت سے جوڑ رکھا ہے۔ بچپن میں کلام کرنا تو معجزہ لوگوں کو جلدی سے سمجھ آگیا مگر [ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا] یہ معجزہ کیسے بنا؟ اسی طرح کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان پر بڑھاپا آئے گا یوں عیسیٰ علیہ السلام کا بڑی عمر میں لوگوں سے بات کرنا معجزہ ہے۔ اس کو معجزہ بنایا ان دلائل نے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔(النساء :158) اور قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ (صحيح البخاری:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3448)

یہ ایسا واقعہ ہے جو انسانی دنیا کے عام قوانین کے خلاف ہے، لہٰذا یہ معجزہ ہے۔ جس میں عیسیٰؑ کے لیے قدرتی حفاظت اور ربانی تکریم جمع ہو گئی۔ جو نظریات یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی یا کوئی چال تھی، وہ اللہ کے اعلانِ قدرت کے خلاف جاتے ہیں۔ قرآن نے اسے [اللہ نے اٹھایا] کہہ کر دشمن کی تمام تدابیر کو باطل قرار دیا ہے۔ یہ سادہ تاریخی واقعہ نہیں یہ اللہ کی قدرت کا نشان ہے جو قرآن میں برملا بیان ہوا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ اپنی قدرت، اپنے غلبے اور اپنی حکمت کو واضح کر دے
حکم اسی کا ہے اور اس کے فیصلوں پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔

تلاش کریں