73 فرقوں والی حدیث اصلًا صحیح ہے، اگرچہ بعض روایات میں الفاظ کے فرق اور اسانید کے درجات مختلف ہیں۔
قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ یوں ہے
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ بن گئے، ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔
(المؤمنون: 53)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَسَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً
میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب کے سب آگ میں ہوں گے سوائے ایک کے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ (جماعت) جو اس طریقے پر ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(سنن ترمذی، حدیث نمبر 2641)
اسی روایت کو امام ابو داود (4597) میں درج کیا اس میں الجماعة کے الفاظ بھی ہیں اور ابن ماجہ (3991) نے بھی نقل کیا ہے۔ بعض طرق میں کلہا فی النار کے الفاظ ہیں، بعض میں نہیں۔ یعنی یہ روایت اپنی متعدد اسانید شواہد کی بنا پر اور طرق کی بنا پر صحیح ثابت ہے، اور امت کے افتراق اور نجات یافتہ گروہ کے بارے میں واضح خبر دیتی ہے۔
جبکہ اسکی تائید قرآن میں اس طرح بھی ہے کہ
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ
اور جو لوگ ہم نے پیدا کیے ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق رہ نُمائی کرتا ہے اور اسی کے مطابق انصاف کرتا ہے۔
(الاعراف:181)
اس طرح ایک ہی گروہ کے حق ہونے کی تائید ہے۔