نبی ﷺ نے اس پہلے لشکر کے لیے مغفرت کی بشارت دی جو قیصرکے شہر(قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا۔ فرمایا کہ
أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر(رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔
(صحیح بخاری:حدیث نمبر: 2924)
یزید بن معاویہؒ وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی بشارت پوری ہوئی۔ یہ سعادت اسی لشکر کو حاصل ہوئی جس کی قیادت یزیدؒ کر رہے تھے اور جس میں جلیل القدر صحابی ابو ایوب انصاریؓ بھی شریک تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یزیدؒ کو اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کی عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کی زبان صادق سے اس کے لشکر کی بخشش کی بشارت دی گئی۔ خود امام بخاری کی تصریح کے مطابق اس لشکر کے امیر یزید بن معاویہ تھے۔ ملاحظہ ہوں
قَالَ مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ
محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ میں بیان کی جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری (رض) بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔
(صحیح بخاری:حدیث نمبر 1185)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ یزیدؒ کو بھی اس مغفرتِ نبوی ﷺ میں حصہ ملا، کیونکہ وہ اسی مبارک لشکر کا کمانڈر تھا۔ ان احادیث کی روشنی میں یزید بن معاویہ کے لیے مغفرت ثابت ہے اور اس پر رحمۃ اللہ کہنا درست ہے۔ یزیدؒ کی قیادت میں یہ مغفور لشکر جو رومی سلطنت کے دارالحکومت کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ ابو ایوب انصاریؓ جیسے اکابر صحابی کا یزید کی امارت میں جہاد کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ وقت کے لحاظ سے ایک معتبر اور قبول شدہ قائد تھے۔ اس عظیم الشان اقدام کی بنیاد پر یزیدؒ کو مغفور قرار دینا خود نبی ﷺ کی خبر صادقہ سے ثابت ہے۔