بدعت بالآخر شرک تک لے جا سکتی ہے، کیونکہ بدعت اصل میں عبادت کے مفہوم میں اضافہ یا تبدیلی ہے جو توحیدِ عبادت کے راستے سے ہٹاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ چیزیں مقرر کر دیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(الشورى 21)
یہ آیت بتاتی ہے کہ دین میں نئی راہیں بنانا اللہ کے ساتھ تشریعی شرکت ہے، یعنی جیسے اللہ حکم دیتا ہے، ویسے ہی بندہ بھی اپنی پسند سے عبادت ایجاد کرے یہی بدعت کا آغاز ہے، اور یہی آگے چل کر شرک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ہر بدعت سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا
كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
ہر بدعت گمراہی ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث 867)
اسی طرح ابتدائی امتوں نے جب عبادت میں نئی رسمیں ایجاد کیں، تو ان کے صالحین کی قبروں کے گرد عبادت شروع ہوئی، اور وہ رفتہ رفتہ شرک میں پڑ گئیں۔ لہٰذا بدعت اگر روکی نہ جائے تو توحید کو بگاڑ دیتی ہے، کیونکہ وہ عبادت میں اللہ کے حقِ خالص کو دوسروں کی طرف موڑ دیتی ہے اور یہی شرک کی جڑ ہے۔