کیا وتر تین رکعت ہیں یا ایک؟

ایک رکعت بھی درست ہے اور تین بھی نبی ﷺ نے فرمایا
الوتر ركعة من آخر الليل
وتر رات کے آخر میں ایک رکعت ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث 752)

اس سے واضح ہے کہ ایک رکعت وتر سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔ تین اور پانچ رکعت بھی پڑھنا جائز ہے جیسا کہ نبی ﷺ سے ثابت ہے، لیکن ایک رکعت کو آپ ﷺ نے بطور اصل اور کم از کم وتر قرار دیا۔

تین رکعت وتر بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے

عائشہؓ فرماتی ہیں
كان رسول الله ﷺ لا يسلم في ركعتي الوتر
رسول اللہ ﷺ وتر میں دو رکعت پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔
(سنن النسائي، حدیث 1699)

یعنی تین رکعت اکٹھی پڑھتے، اسی طرح پانچ بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے

عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ
كان النبي ﷺ يوتر بخمس لا يجلس إلا في آخرها
نبی ﷺ پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے اور صرف آخر میں بیٹھتے تھے۔
(صحیح مسلم، حدیث 737)

یعنی وتر میں اصل ایک رکعت ہے، اور تین رکعت بھی مسنون طریقہ ہے، دونوں کو ماننا چاہئے، کسی ایک کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔

تلاش کریں