کیا نذر و نیاز عبادت ہے؟

نذر و نیاز کا تعلق بندگی اور خالص عبادت سے ہے، کیونکہ اس میں انسان کسی کے لیے قربانی، کھانا یا مال پیش کر کے اس کی رضا یا مدد کا طالب ہوتا ہے۔ عبادت کی ہر قسم، خواہ وہ دعا ہو، قربانی ہو یا نذر، صرف اور صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی ولی، نبی یا قبر والے کے نام پر نذر و نیاز کرے تو وہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیر دیتا ہے، جو توحید کے منافی اور شرک کے زمرے میں آتا ہے۔
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُكِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، لَا شَرِیْكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ
کہہ دو! بے شک میری صلاۃ، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔
(الأنعام : 162، 163)
مزید فرمایا کہ
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ۚ
اس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مُردار، خُون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز کہ پکارا جائے اس پر۔ (نام) غیر اللہ کا پھر جو مجبور ہوجائے۔
(البقرہ:173)
قربانی یا نذر جیسا کوئی بھی عمل اگر غیر اللہ کے لیے کیا جائے تو وہ عبادت کا رخ مخلوق کی طرف پھیر دینا ہے، جیسا کہ مشرکین مکہ اپنے معبودوں کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے۔ آج بھی جو شخص اولیاء کے نام پر دیگ پکاتا، جانور چڑھاتا یا منت مانتا ہے، وہ اسی شرکیہ عمل کو دہراتا ہے جس سے قرآن نے منع فرمایا۔ نذر ایک عہد ہے جو بندہ اپنے رب سے باندھتا ہے، اس میں کسی اور کا واسطہ یا نام شریک کرنا عقیدے کو بگاڑ دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ، فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ، فَلَا يَعْصِهِ
جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، وہ اسے پورا کرے، اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی، وہ اسے پوری نہ کرے۔
(صحیح البخاری، كتاب الأيمان والنذور، حدیث 6696)
اولیاء و صالحین کے نام پر نذر و نیاز شرعاً باطل اور توحید کے منافی ہے، کیونکہ نذر بندگی کا اظہار ہے اور بندگی صرف خالق کے لیے ہوتی ہے۔

تلاش کریں