نبی کریم ﷺ سے مافوق الاسباب مدد پکارنا جائز نہیں ہے، کیونکہ مدد مانگنا اور فریاد کرنا ایسی عبادت ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ (الفاتحہ: 5)
یہ آیت اصولِ توحید کی بنیاد ہے کہ حقیقی مدد صرف اللہ سے مانگی جائے۔
نبی ﷺ نے بھی واضح فرمایا
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔ (جامع الترمذی، حدیث 2516)
ہاں، دنیاوی زندگی میں نبی ﷺ یا کسی انسان سے وہی مدد مانگی جاسکتی ہے جو ماتحت الاسباب ہو (جیسے کوئی کسی کو پانی مانگے، یا جنگ میں ساتھ دے)، جیسا کہ صحابہؓ نبی ﷺ کی قیادت میں جہاد کرتے اورعملی مدد لیتے تھے۔ لیکن غیب سے، مشکل کشائی یا فریاد کے طور پرمدد یا رسول اللہ کہنا توحید کے خلاف ہے جو شرک ہے، کیونکہ یہ مدد صرف اللہ سے مانگنی ہے۔