محمد ﷺ کے بعد کوئی ایسا امام یا پیشوا مقرر نہیں کیا جا سکتا جسے دین میں معصوم یا وحی کا حامل سمجھا جائے۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے۔ دین مکمل ہو چکا ہے اور شریعت صرف قرآن اور سنت پر قائم ہے، نہ کہ کسی نئے امام کی اطاعت پر۔ عقیدہ امامت اہل تشیع کا کفریہ عقیدہ ہے جسکا رد ایمان کی اساس میں شامل ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
(المائدة 3)
یہ اعلان واضح کرتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد دین کے لیے کوئی نیا نبی یا امامِ معصوم یا نئی وحی درکار نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لا نَبِيَّ بَعْدِي
میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(صحیح بخاری 3455، صحیح مسلم 1842)
اگر نبی کے بعد وحی اور شریعت کا سلسلہ ختم ہونے پر ایمان ہے تو امام معصوم ماننا بھی بدعت ہے، کیونکہ یہ عملاً نبوت کے قائم مقام ماننے کے مترادف ہے۔
صحابہ کرامؓ نے بعد میں صرف خلیفہ منتخب کیے تاکہ امت کا نظم و نسق قائم رہے، لیکن ان میں سے کسی کو شریعت کا منبع یا معصوم امام نہیں مانا گیا۔
لہٰذا عقیدہ امام یعنی یہ ماننا کہ نبی ﷺ کے بعد اللہ کی طرف سے معصوم امام مقرر کیے جاتے ہیں، صریح طور پر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اسلام میں صرف اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت واجب ہے، اور مسلمانوں کے معاملات شورىٰ اور خلافت کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، نہ کہ کسی خود ساختہ موروثی یا معصوم امام پر۔