کیا نبی ﷺ کو مختارِ کُل کہنا شرعی ہے؟

نبی کریم ﷺ کو مختارِ کُل کہنا شرک ہے، یہ لفظ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ کائنات کا مختارِ کُل، تمام امور کا مالک اور ہر چیز پر اختیار رکھنے والا صرف اور صرف اللہ رب العالمین ہے۔

قرآن مجید میں فرمایا
قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ
کہہ دو! سارا معاملہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔  آل عمران: 154

یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ کُل اختیار اللہ ہی کے پاس ہے، کسی نبی یا ولی کے پاس نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا
لَا تَطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
مجھے اس طرح نہ بڑھا چڑھا کر بیان کرو جیسے نصرانیوں نے ابنِ مریم کو بڑھایا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔

صحيح البخاري – كتاب أحاديث الأنبياء – باب قول الله واذكر في الكتاب مريم:3445

اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ اپنی شانِ عبدیت اور رسالت کو بیان فرماتے تھے، نہ کہ مختارِ کُل ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔

البتہ یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بڑی عظمت دی، آپ ﷺ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے، اور آپ ﷺ کو شفاعتِ کبریٰ عطا فرمائی۔ لیکن یہ سب اللہ کے اذن اور اختیار سے ہے، نبی ﷺ کا اختیار نہیں۔

نبی ﷺ کو مختارِ کُل کہنا غلو اور اللہ کے حق میں شریک بنانے والی بات ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

تلاش کریں