نبی ﷺ سمیت تمام انبیاء و انسانوں کی عبادت کا وقت وفات تک ہے۔ اس کے بعد اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ قرآن نبی ﷺ کو مخاطب کر کے کہتا ہے
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہارے پاس یقین یعنی موت آ جائے۔ الحجر: 99
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ عبادت کا وقت موت تک ہے، اس کے بعد کوئی بھی بشر صلاۃ، صوم یا دوسری عبادات ادا نہیں کرتا۔
نبی ﷺ نے بھی فرمایا
لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُهُ إِلَّا خَيْرًا
تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور نہ اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، اور مومن کی عمر میں اضافہ اس کے لیے خیر ہی میں اضافہ کرتا ہے۔
صحيح مسلم – كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار – باب كراهة تمني الموت لضر نزل به: 1631
موت کے بعد قیامت تک دوبارہ دنیاوی زندگی نہیں ملتی۔ دنیا کی قبروں میں انبیاء یا عام انسان کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا، ان کا زندہ ہونا قیامت والے دن ہوگا۔ فرمایا کہ
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
پھر بے شک تم اس کے بعد مرنے والے ہو۔ پھر بے شک تم قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔
المؤمنون: 15-16
یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ موت کے بعد بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونا صرف قیامت کے دن ہوگا۔
نبی ﷺ کے بارے میں اللہ نے فرمایا
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ
یقیناً آپ کو بھی موت آنی ہے اور انہیں بھی موت آنی ہے۔ الزمر: 30
یعنی نبی ﷺ بھی بشر تھے اور انہیں بھی موت آئی۔ یہ کہنا کہ آپ ﷺ دنیا کی قبر میں زندہ اور صلاۃ ادا کررہے ہیں، یہ اسلام کے خلاف ہے۔
یہ حتمی اعلان ہے کہ دنیا کے بعد اصل بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونا قیامت کے دن ہوگا۔(المومنون:۱۵، ۱۶)
لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا کہ نبی ﷺ اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہیں، قرآن و صحیح حدیث کے خلاف ہے۔ انبیاء کی برزخی زندگی اللہ اعلی جنتوں میں ہے قبروں میں نہیں۔ جس کی کیفیت اللہ ہی جانتا ہے، مگرعبادت موت کے بعد باقی نہیں رہتی۔