کیا مسلمان ریاست میں غیر مسلم کو سربراہ بنایا جا سکتا ہے؟

جی نہیں، مسلمان ریاست میں غیر مسلم کو سربراہ بنانا جائز نہیں۔ اسلام نے قیادت کو ایمان اور دین کے ساتھ لازم کیا ہے، کیونکہ سربراہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے مطابق فیصلے کرے۔ غیر مسلم چونکہ قرآن و سنت کو اپنا دستور نہیں مانتا، اس لیے اس کی قیادت میں امت کے دین و ایمان کو خطرہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلَنْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا
اور اللہ کبھی کافروں کو ایمان والوں پر غلبہ نہیں دے گا۔
(النساء 141)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی۔
(اانساء:59)
یہ اصول قیادت پر لاگو ہوتا ہے کہ سربراہی مسلمان ہی کی ہوگی یعنی اہل ایمان اس سربراہ کی اطاعت کریں گے جو (مِنكُمْ) کی شرط پر پورا آئے گا۔ خلفائے راشدینؓ کی مثال بھی یہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں میں سے ہی قیادت منتخب کی۔ لہٰذا اسلامی ریاست میں غیر مسلم کو سربراہی دینا شریعت کے خلاف ہے اور امت کو شرک و فتنہ میں ڈالنے والا عمل ہے۔

تلاش کریں