کیا مروجہ اسلامی بینکنگ سود سے پاک ہے؟

مروجہ اسلامی بینکنگ کا اصل دعویٰ یہ ہے کہ یہ سود (ربا) سے پاک ہے، مگر عملی حقیقت یہ ہے کہ اکثر معاملات صرف نام کی تبدیلی ہیں، حقیقت میں سود ہی کی مختلف شکلیں باقی رہتی ہیں۔

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن ایسے کھڑے ہوں گے جیسے کوئی شخص شیطان کے اثر سے پاگل ہو گیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں: بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
(البقرة 275)

یعنی سود حرام ہے، تجارت حلال ہے۔

اسلامی بینکنگ میں مرابحہ یا اجارہ کے نام پر قرض دے کر قسطوں میں واپسی کے وقت زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے، جو حقیقتاً سود ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا
الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ

سونا سونے کے بدلے، اور چاندی چاندی کے بدلے، اور گیہوں گیہوں کے بدلے، اور جَو جَو کے بدلے، اور کھجور کھجور کے بدلے، اور نمک نمک کے بدلے (بیچا جائے) برابر برابر، ایک ہی وقت میں (ہاتھوں ہاتھ)۔ پھر جب یہ اجناس مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو، بشرطیکہ وہ ہاتھوں ہاتھ (نقد) ہو۔ پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ مانگا تو اس نے سود لیا، لینے والا اور دینے والا دونوں اس میں برابر ہیں۔
(صحیح مسلم، حدیث 1584)

یعنی جب جنس کا تبادلہ ہو تو برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے، زیادتی سود ہے۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں سودی معاملات سے سختی سے اجتناب کیا گیا، اور خالص تجارتی شراکت، مضاربت اور شرکت کو اپنایا گیا، نہ کہ قرض پر نفع کی شرط لگائی گئی۔

لیکن موجودہ اسلامی بینکنگ میں زیادہ تر کاغذی نام بدل کر سودی ڈھانچہ باقی رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہ سود سے پاک نہیں کہلا سکتی۔

اس کا حل یہ ہے کہ حقیقی مشارکت اور مضاربت کے اصول پر مبنی مالی نظام قائم کیا جائے، محض اسلامی کا لیبل لگا کر دھوکہ نہ دیا جائے۔

تلاش کریں