کیا مردہ ولی کو مشکل میں پکارنا جائز ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ مشکل اور حاجت کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا جائز ہے۔ مردہ ولی یا کسی بھی غیر اللہ کو مشکل کشائی کے لیے پکارنا شرک ہے، کیونکہ مدد صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًۭا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور اللہ کے سوا ایسے کو نہ پکار جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے، اور اگر تو نے ایسا کیا تو یقیناً تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔(يونس: 106)

ایک اور جگہ فرمایا
وَأَنَّ ٱلْمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًۭا
اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔(الجن: 18)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔(جامع الترمذی، حدیث 2516)

لہٰذا مردہ ولی کو مشکل میں پکارنا توحید کے منافی اور صریح شرک ہے۔ انبیاء و اولیاء خود اللہ کے محتاج ہیں، وہ اپنی قبروں سے کسی کو نہ سن سکتے ہیں اور نہ مدد پہنچا سکتے ہیں۔ اصل ایمان یہ ہے کہ ہر حال میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے۔

تلاش کریں