کیا فنا فی اللہ عقیدہ دین کا حصہ ہے؟

فنا فی اللہ کا عقیدہ تصوف میں مشہور ہے، جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ بندہ اپنی ذات، ارادہ اور خواہشات کو اللہ میں فنا کر دے اور اس کے وجود میں ڈوب جائے۔ صوفیاء  نے اس کو اس درجے تک بڑھایا کہ بندہ اور اللہ کی ہستی ایک ہو جاتی ہے۔ یہ نظریہ دینِ اسلام کا حصہ نہیں بلکہ کفر وغلو اور انحرافِ شریعت ہے۔

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں یقین  یعنی موت  آ جائے۔
 الحجر :99

قرآن نے انسان کے لیے عبادت، اطاعت اور تقویٰ کو اصل مقصد قرار دیا، نہ کہ فنا ہو کر اپنی ہستی کو مٹا دینا یا اللہ کی ذات میں ضم ہو جانا۔ یہ دراصل وحدت الوجود کی ایک شکل ہے، جو شرک اور دین میں اختراع ہے۔ اسلام میں بندے کو اپنی عبدیت پر قائم رہنا ہے، نہ کہ الوہیت میں شریک ہونے کا تصور پیدا کرنا۔ نصرانیوں نے عیسیٰؑ کو اللہ کا جزء یا اللہ میں فنا مان لیا، جس کے نتیجے میں وہ شرک کے مرتکب ہوئے۔ فنا فی اللہ کا غالی نظریہ اسی طرح کی گمراہی ہے، جبکہ انبیاء و رسل ہمیشہ عبدیت اور اطاعت پر زور دیتے رہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أُنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ
بیشک میں بشر ہوں جیسے تم میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔
صحيح البخاري – كتاب الصلاة – باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 401

یاد رہے یہ بھولنا وحی الہی کے پہچانے میں نہیں بلکہ عام بشری تقاضے کے تحت تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی عبدیت کو واضح کیا، اور یہ بتایا کہ آپ بھی بشر ہیں اور صرف اللہ کے برگزیدہ رسول ہیں۔ جب نبی ﷺ بھی فنا فی اللہ یعنی میں اللہ میں ضم نہیں ہوئے تو کسی اور کے لیے یہ دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ فنا فی اللہ دینِ اسلام کا حصہ نہیں، بلکہ ایک صوفیانہ غلو ہے۔ دین کا اصل عقیدہ عبودیت ہے بندہ بندہ رہے اور اللہ رب رہے۔ قربِ الٰہی کا صحیح راستہ اطاعت، عبادت اور تقویٰ ہے، نہ کہ فنا اور حلول کے باطل تصورات بنائے جائیں۔

تلاش کریں