عقیدہ صرف وحی پر مبنی ہونا چاہیے، اس لیے اس میں اصل بنیاد قرآن اور صحیح حدیث ہے۔ حدیث میں سب سے معتبر مرفوع حدیث ہے کیونکہ وہ براہِ راست نبی ﷺ کی طرف منسوب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
اور وہ (نبی ﷺ) اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے، یہ تو صرف وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔
(النجم 3-4)
معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی طرف مرفوع روایت وحی کے زمرے میں آتی ہے، اور عقیدہ وحی بھی وحی سے ثابت ہوتا ہے۔
سابقہ امتوں نے جب اپنی خواہشات یا علما کے اقوال کو عقیدہ بنایا تو گمراہ ہوئیں۔ ملاحظہ ہوں (التوبہ 31)
نبی ﷺ نے فرمایا
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي
تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑنا۔
(سنن ابوداؤد، حدیث 4607)
اس سے واضح ہے کہ عقیدہ میں مرفوع حدیث کافی ہے، کیونکہ وہ نبی ﷺ سے منسوب وحی ہے۔ صحابہؓ بھی اسی پر ایمان لاتے اور کسی غیرمرفوع قول کو عقیدہ نہیں بناتے تھے۔ ہمارے لئے بھی صحابہ کا یہ طریقہ احسن راستہ ہے تاکہ بدعت و شرک سے بچا جا سکے۔