عقائد صرف قرآن سے نہیں لیے جا سکتے بلکہ قرآن اور صحیح سنت دونوں سے لیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ قرآن ہی نے نبی ﷺ کی اطاعت کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
اور جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔
(الحشر 7)
اسی طرح بعض عقائد کی تفصیل قرآن میں اجمالی طور پر ہے اور اس کی وضاحت نبی ﷺ نے کی ہے۔
جیسا نبی ﷺ نے فرمایا نے فرمایا کہ
الا إني اوتيت الكتاب ومثله معه، الا يوشك رجل شبعان على اريكته، يقول: عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فاحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه، الا لا يحل لكم لحم الحمار الاهلي ولا كل ذي ناب من السبع ولا لقطة معاهد
سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا،
یعنی جو شخص صرف قرآن پر اکتفا کرے اور حدیث کو چھوڑ دے تو وہ حلال و حرام میں اپنی خواہش کی پیروی کرے گا وہ مکمل دین کو نہیں پا سکتا۔ صحابہ کرامؓ کا بھی یہی طریقہ تھا کہ قرآن کے ساتھ ساتھ سنت سے عقائد و احکام سیکھتے تھے۔ لہذا عقیدہ ہمیشہ قرآن اور سنتِ صحیحہ دونوں سے اخذ کیا جائے گا، ورنہ گمراہی کا زبردست خطرہ ہے۔