شیعہ اور سنی عوام و خواص کے اندر پھیلی ہوئی بہت سی بدعات اور کفریہ تصورات تقریباً ایک جیسے ہیں۔ فرق محض چند چنندہ مسائل (مثلاً خلافت و امامت یا صحابہؓ کی تکفیر میں جلی و خفی) میں ہے، لیکن عملی شرکیہ و بدعی عقائد میں دونوں کا اشتراک نمایاں ہے۔
جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ
فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا
پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔
(الجن 18)
عوامی مذہبیت میں چاہے شیعہ ہوں یا سنی، دونوں نے قبروں، اولیاء اور مافوق الاسباب طور پر شخصیات کو پکارا جارہا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 435)
لیکن آج نام نہاد طور پر اسلام کی نام لیوا امت کے بہت سے طبقات انہی اعمال کو دین سمجھ بیٹھے ہیں، بس فرق یہ ہے کہ کوئی سنی کہلاتا ہے کوئی شیعہ۔
دونوں فرقے قبروں پر چڑھاوے اور پکار کے قائل ہیں۔
دونوں روح کے قبر میں دوبارہ لوٹنے اور میت کے سننے کے متعلق غیر ثابت شدہ تصورات رکھتے ہیں۔
دونوں تعویذ، گنڈے کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں۔
دونوں یہ مانتے ہیں کہ درود و سلام اور اعمال براہِ راست نبی ﷺ کو پیش ہوتے ہیں۔ وغیرہ
یوں اصل فرق محض چند عقائدی نکات میں ہے، لیکن شرکیہ و بدعی افکار میں اہلِ تشیع اور اہلِ بدعت المعروف اہلِ سنت کا راستہ یکساں ہے۔ جبکہ نجات کا معیار صرف وہی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہؓ کا خالص توحیدپر مبنی راستہ تھا، نہ کہ وہ راستہ جس میں قبر پرستی، وسیلے کی پکار اور غیراللہ سے مدد طلبی شامل ہو۔