قرآن اور سنت کی روشنی میں مردوں کے سماع کی نفی پر صحابہؓ کا موقف اجماعِ سکوتی کی شکل میں موجود ہے۔
جب امّ المؤمنین عائشہؓ نے سننا مراد جاننا فرما کر یہ آیت پیش کی کہ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى تو کسی صحابیؓ نے اس میں اختلاف نہیں کیا۔ یہ عملی اتفاق اجماعِ سکوتی کہلاتا ہے جس کو تواتر کا درجہ حاصل ہے، کیونکہ آیت پیش ہونے کے بعد کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا۔ اس قول کے بعد ام المومنین عائشہؓ کئی سال حیات رہیں بعد میں بھی اس میں کوئی مخالفت نہیں پائی گئی۔
یہ اجماع صرف علمی اتفاق نہیں بلکہ عملی طرزِ عمل میں بھی نظر آتا ہے، صحابہؓ قبر والوں سے دعا یا فریاد نہیں کرتے، نہ ان سے مدد طلب کرتے۔ یہ سکوتی اجماع اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مردوں کا سماع، دعا سننا یا فریاد سننا ممکن نہیں، اور یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ اس اجماع کی روشنی میں قبر والوں سے مدد طلب کرنا یا ان کے سننے پر ایمان لانا شرک اور باطل ہے۔