یہ بات خود عقل، نقل اور شریعت تینوں کے خلاف ہے کہ کوئی شخص مردوں کو قبر میں زندہ مانے۔ قرآن نے صاف اعلان کیا ہے کہ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (النمل 80)
اگر کوئی انسان یہ عقیدہ رکھے کہ قبر میں مدفون شخص زندہ ہے، سنتا ہے، دیکھتا ہے، اردگرد کے حالات کا شعور رکھتا ہے اور زندوں کی پکار کا جواب دیتا ہے تو یہ دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ ہم نے ایک زندہ ہستی کو زمین کے نیچے بند کر رکھا ہے۔ اگر واقعی ایسا مان لیا جائے تو شریعت، عقل اور اخلاق تینوں کے نزدیک اسے وہاں بند رکھنا ظلم، بے ادبی اور گستاخی ہے۔ زندہ انسان کو مٹی میں قید رکھنا کوئی تعظیم نہیں بلکہ سب سے بڑی بے ادبی ہے۔
نبی ﷺ نے کسی بھی قبر کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ان میں مدفون لوگ زندہ ہو کر سنتے ہیں۔ صحابہؓ نے کبھی ایسا اعتقاد قائم نہیں کیا کہ انبیاء یا اولیاء قبروں میں ہماری طرح زندہ ہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتے، تو قبر کھول کر باہر نکالنا لازم ہو جاتا، کیونکہ زندہ کو مٹی میں رکھنا شریعت میں حرام اور ظلم ہے۔ یہی دلیل اس باطل عقیدے کو ختم کرتی ہے۔ اگر سنتے ہیں تو زندہ ہیں، اور اگر زندہ ہیں تو زندہ درگور ہیں اور اگرزندہ درگور ہیں تو یہ سب سے بڑی بے حرمتی ہے۔ اس لیے قرآن نے سماع کا دروازہ بند کر کے اس بے ادبی اور گستاخی سے محفوظ کیا۔
اصل احترام یہی ہے کہ بندے اس حقیقت کو مانیں کہ مرنے کے بعد انسان متی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے اور روح اللہ کے پاس برزخ میں ہوتی ہے اور زندوں سے کوئی سماعت یا دنیاوی تعامل نہیں رکھتی۔ یہی راستہ صحابہؓ کا تھا، یہی فہم ام المؤمنین عائشہؓ نے اختیار کیا، اور یہی توحید کا تقاضا ہے۔ مخلوق کو زندہ مان کر قبروں سے امیدیں باندھنا بھی غلط ہے، اور انہیں زندہ تصور کر کے مٹی میں دبائے رکھنا بھی۔ لہذا احترام اسی میں ہے کہ قرآن کی بات مانی جائے کہ مردہ نہیں سنتا، اور اس طرح نہ توہین کا خدشہ پیدا ہوتا ہے نہ شرک کا۔