نہیں، دین میں رہنمائی کے لیے وحی کے علاوہ کسی کے باطنی تجربے،خواب وغیرہ پر اعتماد جائز نہیں ہے۔ دینِ اسلام کی بنیاد صرف وحی پر ہے، یعنی قرآن اور سنتِ نبوی ﷺ۔ جو شخص باطنی تجربے کو شرعی دلیل بنا لے، وہ وحی کے مقام کو کم اور انسانی احساسات کو معیار بنا دیتا ہے، جو گمراہی کا دروازہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
اپنے رب کی نازل کردہ ہدایت کی پیروی کرو، اور اس کے سوا کسی اور کی پیروی نہ کرو۔
(سورۃ الأعراف: 3)
اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت صرف وہی ہے جو اللہ نے نازل فرمائی۔ نبی ﷺ اور صحابہؓ نے کبھی اصولِ دین کو خواب، ذاتی واردات سے نہیں لیا، بلکہ ہمیشہ وحی کو ہی معیار رکھا۔ اس لیے ہر وہ عقیدہ یا عمل جو وحی سے باہر کسی تجربے پر مبنی ہو، وہ نہ صرف ناقابلِ اعتماد ہے بلکہ عقیدۂ توحید کے منافی بھی ہے۔