کیا دین میں اختلافِ فہم اور اختلافِ دلائل، فرقہ بندی کے مترادف ہے؟

دینِ اسلام میں اختلاف کو کسی درجے میں پسند نہیں کیا گیا، کیونکہ اختلاف دلوں میں دوری، جماعت میں کمزوری، اور دین میں تفرقہ پیدا کرتا ہے۔ اسلام کی بنیاد وحدتِ عقیدہ اور اجتماعِ قلوب پر ہے، نہ کہ دلائل کی کشمکش پر۔ جس امت کو اُمّتِ واحدہ کہا گیا، اُس میں اختلاف دراصل ایک بیماری ہے جو توحید کے اصل مفہوم یعنی اللہ کی بندگی میں اتحاد کو مجروح کرتی ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا کہ
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍۭ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے، اے نبی! تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، پھر وہی انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے۔(الأنعام: 159)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
جو شخص اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے الگ ہو کر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔
(صحیح مسلم: 1848)

اسلام نے امت کوایک جماعتِ موحدین کے ساتھ جوڑا ہے۔ اختلاف چاہے نیت میں ہو یا نظریے میں، اگر وہ وحدتِ امت کو توڑ دے تو وہ اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ اور تفرقہ بازی ہے۔

تلاش کریں