کیا ثواب پہنچانے کے لیے کھانا تقسیم کرنا جائز ہے؟

ایصالِ ثواب کے بارے میں اصل بنیاد قرآن کے ان کلمات پر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرد کی ذمہ داری اور اس کے عمل کی ملکیت کو بیان کیا۔ فرمایا:
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى۝وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى۝ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى۝
یہ کہ نہیں اٹھاتا کوئی بوجھ اٹھانے والا، بوجھ دوسرے کا۔ اور یہ کہ نہیں ملتا انسان کو مگر وہی کچھ جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب اسے دکھائی جائے گی۔
(النجم، 38–40)
یہ تینوں جملے مل کر یہ اصول قائم کرتے ہیں کہ جزا کا تعلق انسان کی اپنی کوشش سے ہے، دوسرے کے عمل سے نہیں۔ اسی لیے قرآن نے نیکی اور بدی کی نسبت ہمیشہ انسان کے ذاتی سعی کے ساتھ جوڑی، اور کسی دوسرے کے عمل کو اس کی نجات یا درجات کا ذریعہ قرار نہیں دیا۔

جب اس اصول کو صحابہؓ کے فہم کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ عبادات کو ذاتی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اعمال کی قبولیت کا دروازہ نیت اور کوشش سے متعلق تھا۔ انہوں نے کسی مخصوص کھانے، نیاز یا رسومات کو “ایصالِ ثواب” کے نام پر نہ کیا، نہ اسے دین کا حصہ سمجھا۔ اگر ایصالِ ثواب بذاتِ خود عبادتِ مشروعہ ہوتا تو صحابہؓ اس پر سب سے زیادہ عمل کرتے، مگر پوری زندگی میں نہ انہوں نے میت کے لیے کوئی اجتماعی کھانا کیا، نہ سالانہ یا چہلم جیسے دن نکالے۔

حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے میت کے حق میں دعا، صدقہ جاریہ اور نیک اولاد کی دعاؤں کو ذکر کیا، مگر ان میں سے کوئی بھی (ایصالِ ثواب) نہیں بلکہ ایسے اعمال ہیں جن کا نفع اللہ کی طرف سے میت تک پہنچایا جاتا ہے یعنی اللہ نفع پہنچاتا ہے، انسان نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم فلاں عمل کا ثواب فلاں کو پہنچاتے ہیں، بلکہ فوت شدہ مومنوں کے لئے دعا کرتے تھے۔

اسی اصول کی بنیاد پر اگر ایصالِ ثواب کو لیا جائے کہ انسان اپنے کیے ہوئے عمل کا ثواب کسی میت کو منتقل کرے، تو یہ قرآن کے قطعی اصول ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ کے خلاف ہے، کیونکہ نجات اور جزا انسان کی اپنی سعی سے ہے، کسی دوسرے کے عمل کے تحفے سے نہیں۔ لہٰذا رسومات، کھانے اور خاص ایصال کے نام پر کیے جانے والے اعمال دین میں اصل نہیں رکھتے بلکہ بدعت اور آیات کا کفر ہے۔

تلاش کریں