کیا توحید کے بغیر اعمالِ صالحہ قبول ہوتے ہیں؟

اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ایمانِ خالص اور توحید پر ہے، کیونکہ توحید ہی ہر نیکی کی بنیاد ہے۔ اگر نیت یا عمل میں شرک شامل ہو جائے تو وہ عمل باطل ہو جاتا ہے، خواہ ظاہراً کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے، وہ دراصل عبادت کو غیر اللہ کے لیے پیش کر رہا ہے، اور یہ خالص بندگی کے منافی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اور یقیناً تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف وحی کی گئی کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا، اور تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔
(الزمر: 65)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ شرک عمل کو کالعدم کر دیتا ہے، چاہے وہ عمل عبادت ہو یا خدمتِ خلق۔
نبی ﷺ نے فرمایا
قالَ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعالَى: أَنا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَن عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فيهِ مَعيَ غَيْري، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں شرک سے بالکل بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل میرے ساتھ کسی اور کے لیے کیا، میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔
(صحیح مسلم: 2985)

لہٰذا جو عمل توحید سے خالی ہو، وہ ظاہری طور پر اچھا ہو کر بھی مردود ہے۔ نجات اسی کے لیے ہے جو عمل بھی کرے تو اللہ ہی کے لیے کرے، اور اطاعت بھی صرف اسی کی کرے۔

تلاش کریں