کیا تناسخ کا نظریہ اسلامی مسالک کے نزدیک باطل ہے؟

اسلامی مسالک کے نزدیک تناسخ کا عقیدہ بالکل باطل ہے، اور یہ بات قرآن، سنت اور فہمِ صحابہؓ تینوں سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روح کے قبض اور اس کے برزخ میں ٹھہرائے جانے کو اپنے لیے خاص قرار دیا ہے۔
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۝
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کر لیتا ہے) پھر روک لیتا ہے ان (روحوں) کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقررہ مُدّت تک چھوڑ دیتا ہے بےشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔
(الزمر: 42)
اس میں روح کے لیے صرف ایک راستہ بتایا گیا ہے۔ موت کے بعد برزخ پھر اسکے بعد قیامت کے دن اصل جسم میں دوبارہ اٹھایا جانا۔ قرآن نے کہیں یہ ذکر نہیں کیا کہ روح دنیا میں گھومتی ہے، کسی اور جسم میں داخل ہوتی ہے، یا کسی جانور، پرندے یا شخص میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ خاموشی بذاتِ خود دلیل ہے کہ تناسخ جیسی چیز اسلام میں سرے سے موجود ہی نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے بھی روح کے بارے میں صرف برزخ کی خبر دی ہے۔ موت کے ساتھ ہی انسان کی دنیاوی حرکت ختم اور برزخی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو جہنم ہے تو جہنم والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
(صحيح البخاری:كتاب الجنائز:حدیث: 1379)

یہ اس بات کا اعلان ہے کہ روح کا سفر دنیاوی جسموں میں پھرنے کا نہیں، بلکہ برزخی فیصلے کا ہے۔ اگر روح مختلف جسموں میں جاتی، تو نبی ﷺ ضرور خبر دیتے، کیونکہ یہ عقیدے کا بنیادی حصہ ہے۔ لہذا تناسخ کا نظریہ باطل ہے، غیر اسلامی اور مشرکانہ مذاہب سے ماخوذ ہے۔ یہی عقیدہ ہندومت، بدھ مت اور باطنی فلسفوں کا ہے جس نے سابقہ قوموں کو آخرت کے انکار تک پہنچایا تھا۔ صحابہ کرامؓ کے ہاں بھی روح کے منتقل ہونے کا کوئی تصور نہیں ملتا، ان کے نزدیک روح مرنے کے بعد صرف برزخ میں رہتی ہے۔ اس لیے اسلام میں نزدیک تناسخ کا عقیدہ مکمل طور پر باطل، غیر شرعی اور توحید کے منافی ہے، اور عقیدۂ آخرت کو توڑ دینے والا ہے۔

تلاش کریں