کیا تقدیر پر ایمان توحیدِ ربوبیت کا حصہ ہے؟

جی ہاں، تقدیر پر ایمان دراصل توحیدِ ربوبیت کا بنیادی حصہ ہے، کیونکہ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ماننا ہے کہ ہر چیز کا خالق، مالک، مدبر اور حکم دینے والا صرف اللہ ہے، اور کائنات میں کوئی چیز اس کی مشیت کے بغیر واقع نہیں ہو سکتی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ۝
بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کی ہے۔
(القمر :49)

یعنی دنیا میں ہر واقعہ، خیر یا شر، موت یا زندگی، رزق یا محرومی سب اللہ کے علم، ارادے اور فیصلے کے مطابق ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
کَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ
اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
(صحیح مسلم:جلد سوم:تقدیر کا بیان:حدیث نمبر2247)

پس تقدیر پر ایمان یہ یقین ہے کہ اللہ اکیلا ہی ہر چیز کا فیصلہ کرنے والا رب ہے، اور اس کے علم و ارادے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا یہی توحیدِ ربوبیت کی عملی بنیاد ہے۔

تلاش کریں