جی ہاں، ایمان دل، زبان اور عمل کا مجموعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ، الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جب اس کی آیات ان پر پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔
(الانفال: 2-3)
اس آیت میں دل کا یقین، زبان کا ذکر اور اعمال کا ذکر تینوں موجود ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ ایمان کی ستر سے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل ‘لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ’ کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
صحيح مسلم – كتاب الإيمان – باب شعب الإيمان:35
یعنی ایمان صرف دل کی بات نہیں بلکہ زبان کے اقرار اور عملی اطاعت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔