کیا اولیاء کے مزارات شریعت میں ثابت ہیں؟

اولیاء ہوں یا انبیاء ہوں کسی کے مزارات کو دین کا حصہ بنانا اور ان پر عبادت یا تبرک کے لئے جمع ہونا حرام اور شرک کا ذریعہ ہے۔

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰهِ أَحَدًا

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
(الجن، 72:18)

نبی ﷺ نے فرمایا
لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔
(صحیح بخاری، حدیث 1330، صحیح مسلم، حدیث 529)

نبی ﷺ نے اس عمل کو لعنت کا سبب قرار دیا، لہٰذا قبروں پر مزارات یا گنبد بنانا، وہاں سجدہ، نذر و نیاز یا دعا کے لئے جانا شریعت میں ممنوع اور حرام ہے، کیونکہ یہ قبر پرستی ہے اور شرک کی جڑ ہے۔قبروں کو پختہ کرنا، ان پر عمارت یا گنبد بنانا، شریعت میں سختی کے ساتھ منع ہے۔

جابرؓ فرماتے ہیں کہ

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ
رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا۔
(صحیح مسلم، حدیث 970)

لہذا قبروں پر سیمنٹ/چونے سے پختگی حرام ہے۔ ان پر بیٹھنا یا ان کے اوپر تعمیر کرنا بھی حرام ہے۔ قبروں پر گنبد، عمارت یا مزار بنانا دین میں بدعت اور قبر پرستی کی راہ ہے۔ اس طرح کی تعمیر شرک کا ذریعہ بنتی ہے، اسی لئے نبی ﷺ نے اسے حرام قرار دیا۔

تلاش کریں