کیا امت کا زوال عقیدے کے فساد کی وجہ سے ہے؟

جی ہاں، امت کے زوال کی اصل جڑ عقیدے کے فساد میں ہے۔ جب توحید خالص کمزور ہو جائے اور لوگ بدعت، شرک، نفاق اور دنیا پرستی میں پڑ جائیں تو اللہ کی نصرت اٹھا لی جاتی ہے۔

قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ
قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ ۭ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِيْنَ
آپ فرما دیجیے زمین میں چلو پھرو تو دیکھو کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان میں سے اکثر مشرک تھے۔
(الأنعام: 153)

یعنی عقیدہ اگر قرآن و سنت کے سیدھے راستے پر نہ رہے تو اللہ کا عذاب نازل ہوجاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ

قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لازماً نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرے، پھر تم دعا کرو گے لیکن تمہاری دعا قبول نہ ہوگی۔
(سنن ترمذی:حدیث نمبر 2169)

امت کا عروج اور اللہ کی مدد صرف اسی وقت ہے جب عقیدہ قرآن و سنت کے مطابق خالص رہے۔ عقیدے میں کفر و شرک کا فساد ہی امت کے زوال اور ذلت کا سب سے بڑا سبب ہے۔

تلاش کریں