کیا امام کا قول قرآن پر مقدم ہو سکتا ہے؟

اسلام میں صرف اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت حجت ہیں، کسی فن کے امام یا شیخ کا قول قرآن و حدیث پر مقدم نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ‎
اور جس چیز میں تم اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ وہی میرا رب ہے، اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
(الشورى 10)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اختلاف کی صورت میں فیصلہ صرف اللہ کے حکم (قرآن) اور اس کے رسول ﷺ کی سنت سے ہوگا، کسی امام یا فرقے کے قول سے نہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا
میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
(الموطأ المام مالك، حدیث 1594)

ائمہ کا قول دلیل صرف اس وقت ہے جب وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ اگر کوئی امام یا شیخ کا قول قرآن پر مقدم کیا جائے تو یہ دراصل اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر انسان کو حجت بنانے کے مترادف ہے، جو شرعاً باطل ہے۔ امام کا قول قرآن پر کبھی مقدم نہیں ہوسکتا، بلکہ قرآن و سنت ہی اصل ہیں، اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ انہی کی طرف رجوع کرے۔

تلاش کریں