جی ہاں، اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے دشمنی ایمان کا بنیادی حصہ ہے، اور یہی عقیدۂ الولاء والبراء کہلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
لَا تَجِدُ قَوْمًۭا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوْ كَانُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَٰنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے یا بھائی یا قبیلہ کے لوگ۔
(المجادلہ :22)
نبی ﷺ نے فرمایا کہ
مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ
جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے دشمنی کی، اللہ کے لیے دیا، اور اللہ کے لیے روکا، اس نے ایمان کو کامل کر لیا۔
(سنن ابی داؤد: 4681)
لہٰذا ایمان صرف دل کا اقرار نہیں بلکہ محبت و عداوت کا محور بھی اللہ کی رضا ہونی چاہیے، نہ کہ رشتہ، قوم یا مفاد۔ یہی توحید کی عملی بنیاد ہے۔