دنیا کی زندگی میں کسی بشر کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن نہیں، بلکہ یہ خاص نعمت آخرت میں اہلِ ایمان کو عطا کی جائے گی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں فرمایا
وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ۭقَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰي صَعِقًا فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہماری ملاقات کے لئے آئے اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا تو انہوں نے کہا اے میرے رب مجھے اپنا آپ دکھا کہ میں تجھے دیکھوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ، اس پہاڑ کو دیکھو اگر میرا پنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے تو جب نور ( جلوہ ) ظاہر کیا اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تو اس کو زمین کے ساتھ ہموار بنایا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گرگئے پس جب (ہوش میں آئے تو انہوں نے کہا تیرے لئے پاکی ہے میں نے تیری طرف توبہ کی اور میں سب سے پہلے (اس وقت ) ایمان والوں میں سے ہوں۔
(الأعراف 143)
معلوم ہوا کہ دنیا میں دیدارِ الٰہی ممکن نہیں، حتیٰ کہ جلیل القدر نبی موسیٰ علیہ السلام بھی دنیا میں دیدار نہ کر سکے۔
أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ
بے شک تم میں سے کوئی شخص اپنے رب کو اس وقت تک نہیں دیکھ سکے گا جب تک وہ مر نہ جائے۔
جامع الترمذي – أبواب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – باب ما جاء في علامة الدجال: 2235
یعنی کہ دنیا میں کسی کے لیے دیدارِ الٰہی ممکن نہیں ہے۔
بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کو سامنے دکھا دو، تو فوراً ان پر عذاب آیا
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ
اور (یاد کرو) جب تم نے کہا اے موسیٰ ! ہم ہرگز آپ پر یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو ظاہر نہ دیکھ لیں تو تمھیں (بجلی کی) کڑک نے آپکڑا اس حال میں کہ تم دیکھتے رہ گئے۔
(البقرة: 55)
دنیاوی آنکھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
اہلِ ایمان کو جنت میں یہ نعمت عطا ہوگی جیسے فرمایا کہ
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
(القيامة 22-23)
لہذا دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی کے لیے ممکن نہیں، نہ نبی کے لیے، نہ ولی کے لیے، نہ کسی اور کے لیے۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کو دنیا میں دیکھ چکا ہے وہ طاغوت ہے، جھوٹ کہتا ہے اور قرآن و سنت کے خلاف بات کرتا ہے۔ دیدارِ الٰہی صرف آخرت کی عظیم نعمت ہے جو اہلِ توحید و ایمان کو عطا کی جائے گی۔