وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ کس طبقے کے چہروں کی کیفیت ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ ۝ تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ۝
اس دن کچھ چہرے سخت اُترے ہوئے ہوں گے، وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا عذاب کیا جائے گا۔
(سورۃ القیامہ :24، 25)

یہ کیفیت کافروں، منافقوں اور فاسقوں کے چہروں کی ہے، جنہوں نے دنیا میں ایمان کا انکار کیا یا نفاق و بدعملی میں عمر گزاری۔ ان کے چہروں پر اُس دن خوف، گھبراہٹ، اور ذلت کے آثار ہوں گے۔ وہ جان لیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی نجات نہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا
يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ
قیامت کے دن متکبر لوگ انسانوں کی شکل میں چیونٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے، ان پر ذلت چھائی ہوگی۔
(ترمذی، حدیث 2492)

پس باسِرَةٌ ان چہروں کی علامت ہے جن پر اللہ کے غضب، نفاق اور کفر کا خوفناک اثر ظاہر ہوگا۔

تلاش کریں